Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
2 - 120
کتاب الاقرار

(اقرار کا بیان)
مسئلہ ۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک امرکا پیش قاضی اقرار کیا اور اس اقرارکا معترف تھا ، اب اس امر سے انکار کرتاہے، آیا یہ انکار اس کا معتبر ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب

صورت مسئولہ میں زید اپنے اقرار پرماخوذ اور انکار اس کا مردود ہوگا،
فی العالمگیریۃ ان کان الواھب اقر بذلک عندالقاضی والعبد فی یدہ اخذ باقرارہ ۱؎ وفی الاشباہ والنظائر اذا اقربشیئ ثم ادعی الخطألم تقبل کمافی الخانیۃ ۲؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
عالمگیری میں ہے اگر ہبہ کرنے والے نے یہ اقرار کیا حالانکہ غلام اس کے قبضہ میں ہے تو وہ اپنے اقرار کی بناء پرماخوذ اور پابند ہوگا۔ اور الاشباہ والنظائر میں ہے جب کوئی کسی چیز کا اقرار کرلے پھر اقرار کے خطا ہونے کا دعوٰی کرے تو یہ دعوٰی مقبول نہ ہوگا،جیسا کہ خانیہ میں ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الہبۃ    الباب التاسع    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۳۹۸)

(۲؎ الاشباہ والنظائر    کتاب الاقرار      الفن الثانی        ادارۃالقرآن کراچی    ۲ /۲۰)
مسئلہ۵: از گورکھپور    محلہ گھوسی پورہ   مرسلہ مولوی حکیم محمد عبداللہ صاحب ۲۹ ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرعی متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے مرض موت میں بحضور ایک جماعت معز زین زوجہ کے مہر کا اقرارکیا اور کہا کہ میرے ذمہ پچاس ہزار روپیہ دین مہر میری زوجہ کا واجب الادا ہے وہ اب تک مجھ سے ادا نہیں ہوا اب ادا ہونا اس کا ضروری ہے، لہذا میں اپنی زوجہ کو اختیار دیتاہوں کہ وہ دین مہر اپنا میری جائداد منقولہ وغیر منقولہ سے وصول کرلے، بعدہ زوجہ نے بناء برہدایت شوہر اپنے کل جائداد شوہری پر قبضہ اپنا کرلیا ،بعدہ ورثہ مقرباہم مختلف ہوئے، اکثر نے اقرار اپنے مورث کا تسلیم کیا۔ اور بعض کا بیان ہے کہ دعوٰی اقرار غلط ہے اور مہر زوجہ کا اس قدرنہیں بندھا تھا۔ اب استفسار یہ ہے کہ اقرارمورث جو کہ بشہادت معزز لوگوں کے ثابت ہے شرعا قابل اعتبارہے یانہیں، اورمقدار مہر مطابق اقرار مورث کے شرعا واجب الثبوت ہے یانہیں، اور قبضہ زوجہ مقر کا بعوض دین مہر اپنے جائداد شوہری پر شرعا قابل نفاذ ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب

اصل یہ ہے کہ مرض موت میں وارث کے لئے اقرار بے تصدیق دیگر ورثہ معتبرنہیں۔
کما نصواعلیہ قاطبۃ وعللوہ بان حقہم تعلق بمالہ ففی تخصیص البعض بہ ابطال حق الباقین۔
جیسا کہ اس پرسب نے نص فرمائی ہے اور انہوں نے اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ تمام ورثاء کا حق میت کے تمام ترکہ سے متعلق ہے تو ترکہ سے کچھ ورثاء کی تخصیص میں باقی ورثاء کے حق کو باطل کرناہے (ت)

مگر جبکہ نکاح معروف ہو تو عورت کے لئے مہر مثل تک اقرار صحیح ومقبول ہے وجہ اس کی یہ کہ مہر مثل موجب اصلی نکاح ہے
کما صرح فی الہدایۃ وغیرھا
 (جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں اس کی تصریح ہے۔ ت) تو خود ثبوت نکاح اس کے اثبات میں کافی ،
فان الشیئ اذا ثبت ثبت باحکامہ
(کیونکہ جب کوئی شے ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے احکام سمیت ثابت ہوتی ہے۔ ت) ولہذا عورت کی بلابینہ اس مقدار تک تصدیق کی جاتی ہے۔
فی وصایا الخانیۃ رجل مات عن اولادہ الصغار وادعت المرأۃ مہرھا قالو ان کان النکاح معروفا کان القول قول المرأۃ الی مھر مثلہا یدفع ذٰلک الیہا۱؎ اھ ملخصا،
خانیہ کے وصایا میں ہے ایک شخص فوت ہوا نابالغ اولاد چھوڑی او رعورت نے ترکہ پر اپنے مہر کا دعوٰی کیا تو فقہاء کرام نے فرمایا اگر عورت سے میت کا نکاح معروف ومعلوم ہے تو عورت کامہر مثل تک دعوٰی قبول کیا جائے گا اور اتنا مہر عورت کو دے دیا جائے گا اھ ملخصا (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضیخاں  کتاب الوصایا فصل فی تصرفات الوصی نولکشور لکھنؤ ۴/۸۵۹)
تو اس قدر میں مریض کی تصدیق اس کے اقرار سے کسی امر غیر ثابت کا  ثابت کرنا نہیں بناء براں واجب القبول ہوا۔ فتاوٰی امام خیرالدین رملی میں ہے :
سأل فیما اذا اقربحضرۃ بینۃ شرعیۃ فی مرضہ بان فی ذمتہ لزوجتہ خمسۃ وعشرین دینارا ذھبا مہرا مؤجلا و صدقتہ فیہ وصدق علی ذٰلک بعد موتہ بعض ورثتہ وکذب البعض فہل الاقرار المذکور صحیح ام لا (اجاب) الاقرار بالمہرصحیح صحیح حیث کانت ممن یؤجل لہا مثل المقربہ کما صرح بہ فی جامع الفصولین وغیرہ معللا بقولہ اذ یقبل قولہا الی تمام مہر مثلہا بلااقرار الزوج ۲؎ اھ بتلخیص۔
ان سے سوال ہوا اس صورت کے متعلق کہ جب کوئی شخص اپنی مرض موت میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں یہ اقرار کرے کہ اس کی بیوی کا اس کے ذمہ پچیس دینار سونامہر مؤجل ہے اور بیوی اس اقرار کی تصدیق کرتی ہے اور اس کی موت کے بعد اس کے بعض ورثاء بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ بعض ورثاء اس کو جھوٹ قرار دیتے ہیں توکیا مذکورہ اقرار صحیح ہوگا یانہیں ، تو امام خیر الدین رملی نے جواب دیاکہ وہ عورت ایسی ہوکہ اس کےلئے اقرار میں بیان کردہ مہرکی مقدار مؤجل ہوتی ہے۔ تومہر کا یہ اقرار صحیح ہے جیسا کہ جامع الفصولین وغیرہ میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے یہ علت بیان فرمائی کہ خاوند کے اقرار کے بغیر  بھی مہر مثل کی حدتک عورت کا قول قبول کیا جائے گا اھ ملخصا (ت)
 (۲؎ فتاوٰی خیریہ    کتاب الاقرار    دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۱۰۰)
پس اگر پچاس ہزار روپے عورت کے مہر مثل سے زائد نہیں تو اس پوری مقدارمیں مریض کا اقرار مقبول ہوگا اور زائد ہیں تو صرف مقدارمہر مثل تک معتبراور قدر زائد میں تصدیق ورثہ یا اقامت بینہ عادلہ شرعیہ کی حاجت ہوگی۔
فان البینۃ کاسمہا مبینۃ والثابت بالشہادۃ کالثابت بالمشاھدۃ۔
کیونکہ بینہ اپنے عنوان کے مطابق واضح کرنےوالا ہے اور شہادت کے ساتھ ثابت شدہ چیزگویا وہ مشاہدہ سے ثابت ہے۔ (ت)

خیریہ کے فتوٰی مذکورہ میں ہے :
والحاصل ان الاقرار لہا بالدنانیر المذکورۃ مہرا صحیح حیث لا زیادۃ فیہ علی مایؤجل لمثلہا ولا یحتاج فیہ الی تصدیق الورثۃ وان کان فیہ زیادۃ لایصح بہا الابہ ویصح فیما ھو مہر مثلہا ۱؎۔
حاصل یہ کہ بیوی کے لئے مذکورہ دنانیر مہر کا اقرار تب صحیح ہوگا جب اس جیسی عورت کے مہر مؤجل کے برابرہو زائد نہ ہو اور اس میں ورثاء کی تصدیق کی ضرورت نہیں، اور اگر اس سے زائد ہو تو پھر ورثائے کی تصدیق کے بغیر اقرار صحیح نہ ہوگا اور یہ بھی مہر مثل کی حد تک صحیح ہوگا۔
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ  کتاب الاقرار    دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۱۰۰)
اس قدر سے سوال کہ دو امر کاجواب منکشف ہوگیا۔ رہا امر ثالث یعنی زوجہ کا جائداد مورث پر بعوض مہر بے رضائے ورثہ قبضہ کرلینا، واضح ہو کہ دین ایک مال حکمی ہے کہ ذمہ پر ثابت ہوتاہے کما فی الحاوی القدسی (جیسا کہ الحاوی القدس میں  ہے۔ت) اور اس کی ادا اس کے مثل ہی سے ہوتی ہے، فقد نصواان الدیون تقضٰی بامثالہا کما فی الاشباہ وغیرھا۔۲؎ تو بیشک سب نے تصریح کی ہے کہ دیون کی ادائیگی اس کی مثل سے ہوگی جیساکہ الاشباہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثالث   کتاب الوکالۃ     ادارۃ القرآن کراچی    ۲ /۱۵)
اور دین وعین محض متبائن ہیں نہ مثلین، ولہذا باجماع ائمہ حق دائن  مالیت میں ہے نہ عین میں۔
نص علیہ فی غیر موضع من الہدایۃ وغیرھا عامۃ کتب المذھب منہا فی اقرار المریض ان حق الغرماء تعلق بالمالیۃ لابالصورۃ ۳؎ اھ۔
اس پر ہدایہ وغیرہ کتب مذہب میں متعدد مقامات پرنص ہے ان میں ایک مقام اقرار المریض میں ہے کہ حق کا مطالبہ کرنے والوں کا تعلق مالیت سے ہوتاہے کسی معین مال کی صورت سے نہیں ہوتا اھ (ت)
(۳؎الہدایۃ   باب اقرار المریض    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۲۴۰)
Flag Counter